وائرلیس چارجنگ ایک طویل عرصے سے سست رفتار اور ناکارہ سمجھی جاتی تھی، کیونکہ فون کو چارجنگ پیڈ پر بالکل صحیح جگہ رکھنا ہمیشہ ایک دردِ سر بنا رہا۔ اگر فون تھوڑا سا بھی اپنی جگہ سے ہل جاتا تو چارجنگ یا تو رک جاتی یا انتہائی سست ہو جاتی تھی۔ لیکن پھر ایپل نے MagSafe کے ساتھ ایک نیا طریقہ متعارف کرایا، جس نے مقناطیس کی مدد سے فون اور چارجر کو بالکل درست جگہ پر جوڑ دیا۔ اب، یہی ٹیکنالوجی Qi2 وائرلیس چارجنگ کی صورت میں تمام اینڈرائیڈ اور دیگر ڈیوائسز کے لیے ایک عالمی معیار بن کر ابھری ہے۔
روایتی وائرلیس چارجرز میں فون کی کوائل (Coil) اور چارجنگ پیڈ کی کوائل کا آمنے سامنے ہونا ضروری ہوتا تھا۔ معمولی سی خرابی کی وجہ سے حرارت زیادہ پیدا ہوتی تھی اور انرجی ضائع ہو جاتی تھی۔ Qi2 vs MagSafe کی اس جدید دوڑ نے اس بنیادی مسئلے کو حل کر دیا ہے۔ جب ڈیوائسز مقناطیس کے ذریعہ خود بخود صحیح پوزیشن میں آ جاتی ہیں، تو چارجنگ کی کارکردگی میں نمایاں اضافہ ہوتا ہے۔
صحیح مقناطیسی الائنمنٹ نا صرف چارجنگ کو تیز بناتی ہے بلکہ فون کی بیٹری کو زیادہ گرم ہونے سے بھی بچاتی ہے۔
ایپل نے جب آئی فون کے لیے MagSafe متعارف کرایا تو یہ ایک خصوصی یعنی پروپرائٹری ٹیکنالوجی تھی۔ لیکن انڈسٹری کو جلد ہی احساس ہوا کہ یہ سہولت ہر سمارٹ فون صارف کے پاس ہونی چاہیے۔ اس مقصد کے لیے 'وائرلیس پاور کنسورٹیم' (WPC) نے ایپل کے ساتھ مل کر Qi2 وائرلیس چارجنگ کا معیار تیار کیا۔
ٹیکنالوجی کی دنیا میں معیار کا ہونا انتہائی ضروری ہے۔ Qi2 vs MagSafe کی اس پیش رفت نے ثابت کر دیا ہے کہ جب بڑی کمپنیاں ایک کھلے معیار پر متفق ہوتی ہیں تو فائدہ تمام صارفین کا ہوتا ہے۔ اب وہ دن دور نہیں جب ہر گاڑی، ڈیسک اور ہوم ایکسیسری میں یہی مقناطیسی نظام موجود ہو گا، جس سے تاروں سے پاک ایک مکمل دنیا کا خواب سچ ثابت ہو سکے گا۔
کیا آپ اپنے فون کے لیے Qi2 یا MagSafe جیسی مقناطیسی وائرلیس چارجنگ استعمال کر رہے ہیں؟ ذیل میں تبصرے میں اپنی رائے کا اظہار کریں!









