ٹیکنالوجی کی دنیا میں جہاں مصنوعی ذہانت نے ہماری زندگیوں کو آسان بنایا ہے، وہیں سائبر مجرموں کو بھی جدید ہتھیار فراہم کر دیے ہیں۔ ماضی میں ہم آواز کی نقل یا آڈیو کلوننگ کے ذریعے ہونے والے دھوکے سنتے تھے، لیکن اب معاملہ اس سے کہیں آگے نکل چکا ہے۔ آج کا سب سے بڑا اور ہولناک سیکیورٹی چیلنج رئیل ٹائم ویڈیو فریب کاری (Real-Time Video Phishing) ہے۔ تصور کریں کہ آپ کو واٹس ایپ یا زوم پر اپنے کسی قریبی عزیز یا دفتری باس کی لائیو ویڈیو کال آتی ہے، وہ بالکل اصل دکھائی دیتے ہیں اور فوری رقم منتقل کرنے کا کہتے ہیں—لیکن حقیقت میں وہ ایک AI سے تیار کردہ جعلی سائے کے سوا کچھ نہیں ہوتے۔
اب تک ہم سمجھتے تھے کہ ویڈیو کالز پر کسی شخص کو لائیو دیکھنا اس کی شناخت کی حتمی تصدیق ہے۔ تاہم، جینیریٹو اے آئی (Generative AI) کے نويں ٹولز نے اس اعتماد کو ریزہ ریزہ کر دیا ہے۔ جدید سافٹ ویئرز اب محض چند سیکنڈز کی آڈیو اور ویڈیو ریکارڈنگ کی مدد سے کسی بھی شخص کا ہوبہو تھری ڈی ماڈل تیار کر سکتے ہیں۔ رئیل ٹائم ویڈیو فریب کاری کے ذریعے حملے آور لائیو چیٹ کے دوران کیمرے کے سامنے بیٹھ کر کسی دوسرے انسان کا چہرہ اور آواز استوار کر لیتے ہیں۔
دیانت داری اور انسانی تعلقات پر قائم ڈیجیٹل اعتماد کو توڑنے کے لیے AI ویڈیو ہیکنگ اب سب سے موثر ہتھیار بن چکی ہے۔
یہ تکنیک صرف عام صارفین یا خاندان کے افراد تک محدود نہیں ہے بلکہ ملٹی نیشنل کمپنیوں کو بھی نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ ہیکرز کمپنی کے سی ای او یا فنانس ڈائریکٹر کا روپ دھار کر ویڈیو میٹنگز کا انعقاد کرتے ہیں اور جونیئر ملازمین کو سیکیورٹی پروٹوکولز بائی پاس کرتے ہوئے نقد رقم کی منتقلی کا حکم دیتے ہیں۔ چونکہ لائیو ویڈیو میں انسان کے تاثرات اور آواز بالکل اصل محسوس ہوتی ہے، اس لیے ملازمین بغیر کسی شک کے دھوکے کا شکار ہو جاتے ہیں۔
جیسے جیسے AI ماڈلز مزید طاقتور ہو رہے ہیں، سائبر سیکیورٹی کے پرانے طریقے ناکارہ ہوتے جا رہے ہیں۔ رئیل ٹائم ویڈیو فریب کاری سے بچنے کا واحد طریقہ آگاہی، احتیاط اور ڈیجیٹل دنیا میں ہر غیر معمولی درخواست پر دوبارہ تصدیق کرنا ہے۔
کیا آپ کو کبھی کسی مشکوک ویڈیو کال یا سائبر فراڈ کا سامنا کرنا پڑا ہے؟ کمنٹس میں اپنی رائے اور تجربات ضرور شیئر کریں۔









